Awwaaz-Pakistan

آواز پاکستان ایک ایسی ویب سایٹ ہے جہاں آپ کرپشن، ناانصافی اور طاقت کا ناجاۂز استعمال، وڈیو، آڈیو اور تصویر کی شکل میں شاۂع کر سکتے ہیں۔

Awwaaz Pakistan is a website for you to post incidents of corruption, nepotism, misuse of government authority in video, audio and image formats.

The Weekly

LATEST NEWS

* If requested we will refer your experience to the concerned authorities for action and follow-up... * Pakistan paid a heavy price in war against terrorism: PM Abbasi......NAB moves SC against LHC decision in Hudaibiya Paper Mills case.... ... * NAB team raids Finance Minister Ishaq Dar's Islamabad house, assets frozen......NEPRA raises electricity price by Rs 3.90 per unit........PCB bans Khalid Latif for five years in spot-fixing case ...
Press ESC or click HERE to close the video


ریٹائرڈ ملازمین اور بیوائوں کے لئے مخصوص فنڈ سے اربوں روپے ڈبو دئیے گئے۔

http://www.awwaaz.com/images/stories/ریٹائرڈ ملازمین اور بیوائوں کے لئے مخصوص فنڈ سے اربوں روپے ڈبو دئیے گئے۔
Share on :
Description

اسلام آباد: قومی اسمبلی کی پبلک اکائونٹس کمیٹی کے اجلاس میں انکشاف ہوا ہے کہ فیڈرل ایمپلائیز بینولنٹ فنڈ کے پیسوں سے سرمایہ کاری کے نام 2.76ارب روپے کا چونہ لگا دیا گیا ہے۔مذکورہ سرمایہ کاری مختلف نجی شعبوں جیسا کھاد، سی این جی،ٹیلی کام اور ٹیکسٹائل کے شعبہ میں کی گئی تھی۔تفصیلات کے مطابق مذکورہ سرمایہ کاری سے پہلے حکومت کی اجازت تک طلب نہ کی گئی تھی اور افسران کی من مانی کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ تمام سرمایہ کاری ڈبو دی گئی ہے جس کا خمیازہ غریب ملازمین اور بیوائوں کو بھگتنا پڑے گا جو سالہا سال سے اپنی تنخواہوں سے اس فنڈ کی کٹوتی اس امید پر کرواتے رہے کہ پنشن سے بوڑھاپا پرسکون گزرے گا۔کمیٹی کے اجلاس میں یہ ہوشربا انکشاف بھی ہوا ہے کہ فیڈرل ایمپلائیز فنڈ کے ذمہ داران افسران کی منی مانیوں کا سلسلہ جاری و ساری ہے جس کے تحت ان افسران ہائوس رینٹ کی مد میں ٩٠فیصد تک خودساختہ اضافہ کر کے سرکاری خزانہ کو 16.26 میلن کا چونہ بھی لگا چکے ہیں۔واضح رہے کہ حکومتی پالیسی کے مطابقہائوس رینٹ میں 45 فیصد اضافہ کیا گیا تھا جسے مجاز حکام نے بنا پیشگی اجازت اور منظوری کے ٩٠ فیصد کر کے اپنی جیبیں بھرنے کا بندوبست کیا۔مذکورہ اجلاس کو بتایا گیا ہے کہ قانون نے مطابق سرپلس فنڈ سے سرکاری شعبہ میں سرمایہ کاری کی جاسکتی ہے تاہم نجی شعبہ میں سرمایہ کاری کی غیرقانونی ہے۔اس پر کمیٹی کے ممبران نے نیب اور دیگر تحقیقاتی ایجنسیوں سے اس فنڈ کے ذمہ داران کے خلاف سخت ایکشن کا مطالبہ کرتے ہوئے ڈوبی ہوئی رقم کی بازیابی کی کوششوں پر زور دیا ہے تاکہ ریٹائرڈ ملازمین ،بیوائوں اور ان کے رشتہ داروں کا اعتماد مجروح نہ ہو اور ادارہ کی گرتی ہوئی ساکھ کو بھی سنبھالا دیا جا سکے

Add Comment تبصرہ شامل کریں
Comments تبصرے
  • No Comments Posted

Visitors Count

Visitors





OR یا

          OR یا





            -Please provide your email or phone number for verification of your upload, Your information will be kept confidential اپلوڈ کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل یا فون نمبرفراحم کریں،آپ کی معلومات کو خفیہ رکھا جاۓ گا۔