Awwaaz-Pakistan

آواز پاکستان ایک ایسی ویب سایٹ ہے جہاں آپ کرپشن، ناانصافی اور طاقت کا ناجاۂز استعمال، وڈیو، آڈیو اور تصویر کی شکل میں شاۂع کر سکتے ہیں۔

Awwaaz Pakistan is a website for you to post incidents of corruption, nepotism, misuse of government authority in video, audio and image formats.

The Weekly

LATEST NEWS

* If requested we will refer your experience to the concerned authorities for action and follow-up... * NAB requests for placing Sharif family's names on ECL......Rangers, FC contingents mount in Red Zone as IHC's deadline to protesters expires.... ... * CJP dismisses Nawaz Sharif's appeal on multiple references petition.....SC forms bench to probe Pakistanis involved in Panama scandal.... ... * NA passes amendment regarding delimitation of constituencies.....NAB to reinvestigate Ishaq Dar in Hudaibiya Paper Mills case... ... * Accountability court declares Hassan, Hussain Nawaz absconders in NAB references....NAB to send another team to Britain for gaining record against Sharif family..... ... * SC reserves verdict on Imran Khan, Jahangir Tareen disqualification cases........ Justice Khosa recuses himself from SC bench hearing Hudabiya case...... ... * Nawaz Sharif tried to fool people, says SC in Panama review order..... ...
Press ESC or click HERE to close the video


لاکھوں کے ٹی اے ڈی اے اڑانے کے باوجودسینیٹ میں حاضری 41فیصد رہی

http://www.awwaaz.com/images/stories/لاکھوں کے ٹی اے ڈی اے اڑانے کے باوجودسینیٹ میں حاضری 41فیصد رہی
Share on :
Description

اسلام آباد: پلڈاٹ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے ایوانِ بالا یعنی سینیٹ میں معزز سینیٹرز کی سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ گزشتہ پارلیمانی سال میں ان کی حاضری محض 41 فیصد رہی۔واضح رہے ایوان میں حاضری کیلئے ان معزز ارکان کو نہ صرف ٹی اے ڈے دیا جاتا ہے بلکہ ماہانہ تنخواہیں بھی دی جاتی ہیں۔لاکھوں کے اخراجات کے بعد بھی ہمارے نمائندگان عوامی خوہشات کے مطابق قانون سازی کے عمل شریک ہونا گوارا نہیں کرتے۔اس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 13ویں پارلیمانی سال یعنی 12مارچ2015سے 11مارچ 2016تک سینیٹرز کی اوسط حاضری41فیصد رہی۔ایم کیو ایم کے سینیٹر کرنل ریٹائرڈ طاہر مشہدی کی حاضری کا تناسب سے زیادہ یعنی 95% رہا۔پشتون خواہ ملی عوامی پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر عثمان کاکڑ 75%کے ساتھ دوسرے نمبر رہے تو جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے سعید غنی 73%کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے۔سینیٹر طلہا محمود جن کا تعلق مولانا فضل الرحمان کی پارٹی کے ساتھ ہے وہ68% کے ساتھ چوتھے اور پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر نعمان وزیر 66% کے ساتھ پانچویں نمبر پر رہے۔دوسری جانب پاکستان کی نصف آبادی کی ترجمان نمائندگان کی حاضری مرد قانون سازوں کی نسبت اوربھی کم رہی۔پی پی پی سے تعلق رکھنے والی سسی پلیجو 55%کے ساتھ پہلے نمبر پر رہیں جبکہ ستارہو ایاز جن کا تعلق عوامی نیشنل پارٹی سے ہے وہ 50%حاضری کے ساتھ خواتین سینیٹرز میں دوسرے نمبر پر رہیں۔حکومت وزرا جن سے سب سے زیادہ ذمہ داری کی توقع کی جاتی ہے کی سنجیدگی کا اندازہ اسحاق ڈار کی حاضری سے لگایا جاسکتا ہے جن کی حاضری شرمناک حد تک 20فیصد رہی اور ہر روز پریس کانفرنس میں جمہوریت کا راگ الاپنے والے وزیر اطلاعات پرویز رشید کی حاضری 27فیصد رہی ہے۔خیال رہے کہ پاکستان ان دنوں اپنی تاریخ کے ایک اور اہم موڑ سے گزر رہا ہے جس کے دوران ارکان پارلیمینٹ اور پارلیمینٹ کا کردار صف اول کا ہونا چاہیئے تاکہ یہ قانون ساز ادارے عوامی آرزؤں کا محور بنتے ہوئے موئثر قانون سازی کر مشکلات اور چیلنجز کا حل نکالیں۔مگر لاکھوں ،کروڑوں کے اخراجات کے باوجود ارکان کی سنجیدگی کا یہ عالم؟چہ معنی دارد؟

Add Comment تبصرہ شامل کریں
Comments تبصرے
  • Elizey says :

    2016-06-27 11:33:21

    Well when their leaders dont like stay in the country why would the aw makers be attending every session ?


Visitors Count

Visitors





OR یا

          OR یا





            -Please provide your email or phone number for verification of your upload, Your information will be kept confidential اپلوڈ کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل یا فون نمبرفراحم کریں،آپ کی معلومات کو خفیہ رکھا جاۓ گا۔